ترقی کا اصل مقصد لوگوں کی خدمت ہونا چاہیے، مگر اکثر ترقیاتی منصوبے عوام کو مرکز میں لانے کے بجائے انہیں حاشیے پر دھکیل دیتے ہیں۔ اوپر سے بننے والی اس ترقی کی قیمت اکثر نچلے طبقے کے لوگ ادا کرتے ہیں۔ اس گفتگو میں ہم ترقی کے اس بیانیے، اس کے ماحولیاتی اثرات اور روزمرہ زندگی پر اس کے اثرات پر بات کرتے ہیں۔
اس کھانے کو مت چھوؤ: بیشتر دفاتر میں کام کرنے والے اقلیتی ورکرز کو اپنا کھانا الگ برتنوں میں کھانا پڑتا ہے۔ ایسا کیوں ہے جانیے اس ویڈیو میں
سندھ توانائی کے ایک تضاد کا شکار ہے—ایک طرف جھمپیر اور گھارو میں دنیا کے بہترین ہوا کے وسائل موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف تھر کے کوئلے کو توانائی کے حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مگر اس “ترقی” نے تھری عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے: کنویں خشک ہو گئے، زمین بنجر ہو رہی ہے، درخت ختم ہو رہے ہیں اور فضا میں راکھ نے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ مقامی لوگ اپنی نسلوں کے نقصان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
جامشورو کوئلہ بجلی گھر بجلی تو فراہم کرتا ہے، لیکن اس کی قیمت ہوا، زمین اور پانی کو نقصان کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔
پاکستان میں معاشرے کے بعض طبقات اور علاقے طویل عرصے سے توانائی کی غربت کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ اس صورتحال نے توانائی کو ایک اہم سیاسی اور سماجی مسئلہ بنا دیا ہے۔ اس کا حل توانائی کے انصاف کے تصور میں پوشیدہ ہے، جس کا مطلب ہے ہر فرد کے لیے مساوی، قابلِ اعتماد، پائیدار اور منصفانہ توانائی کی فراہمی۔