تتلی کو دوستی سے انکار کرنے پر قتل کر دیا گیا۔ خواجہ سرا فرمان عرف تتلی کو یکم جولائی کو گل بہار پشاور میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان سلمان ولد افضل اور نیاز محمد ولد جان محمد نے ابتدائی تفتیش میں قتل کا اعتراف کیا ہے اور اسے دوستانہ تعلقات کا شاخسانہ قرار دیا۔
8 جولائی کی شب تہکال پلازہ پشاور میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا اسد کو قتل کر دیا۔ یوں رواں برس خیبرپختونخوا میں قتل ہونے والے خواجہ سراوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔
صوبے میں خواجہ سراوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ٹرانس ایکشن الائنس کی صدر فرزانہ ریاض نے لوک سجاگ کو بتایا ان میں سے پانچ کو مردان میں، دو کو پشاور میں اور ایک کو ایبٹ آباد میں قتل کیا گیا۔ الائنس کے مطابق 2015ء سے 2025ء تک کے دس سالوں میں یہاں 157 خواجہ سرا قتل ہو چکے ہیں۔
فرزانہ ریاض کہتی ہیں کہ اگرچہ پولیس ملزمان کو پکڑ لیتی ہے لیکن وہ جلد رہا ہوجاتے ہیں کیونکہ اکثر کیسز میں خواجہ سراوں کے والدین صلح کرلیتے ہیں۔کچھ کیسز میں دفعات کمزور لگا دی جاتی ہیں جبکہ حکومت ان معاملے میں خاموش تماشائی کی حیثیت سے آگے کبھی نہیں بڑھتی۔ اسی لیئے آج تک خواجہ سراوں کے کسی قاتل کو سزا نہیں مل پائی۔
وہ سمجھتی ہیں کہ یہ حقیقت خواجہ سراوں کو کمزور ثابت کر کے ان کے خلاف جرائم کو بڑھاوا دیتی ہے۔ "آٹھ قتل کے علاوہ 2025ء میں اب تک خواجہ سراوں سے بھتہ مانگنے، انکو ضلع بدر کرنے اور ان پر تشدد کے 15 کیسز سامنے آچکے ہیں۔"
ان کے مطابق بہت سے خواجہ سرا ملک کو خیرباد کہہ چکے ہیں یا پنجاب یا دوسرے اضلاع میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔ "اس ملک میں خواجہ سرا کیلئے جینا مشکل ہوچکا ہے۔"