خیبر پختونخوا میں نسوار کی تیاری اور فروخت کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی آمنہ سردار نے "نسوار ریگولیشن ایکٹ 2026" کا مسودہ صوبائی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے۔مجوزہ قانون کے تحت بغیر لائسنس نسوار کی تیاری اور فروخت جرم قرار پائے گی اور خلاف ورزی پر 30 ہزارروپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ سکولوں، مدرسوں اور ہسپتالوں کی حدود سے 100 میٹر کے اندر فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔تاہم بل ابھی قانونی الجھن میں پھنسا ہوا ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ بل کس محکمے کے سپرد کیا جائے، اور واضح کیا ہے کہ متعلقہ محکمے کے تعین سے پہلے آگے نہیں بڑھا جائے گا۔ محکمہ قانون بھی اسی سوال کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
شانگلہ کے نوجوان موت نہیں بلکہ روزگار کی تلاش میں گھر سے نکلتے ہیں، مگر بہت سے خاندانوں کو ان کی واپسی زندہ نہیں بلکہ جنازوں کی صورت میں دیکھنا پڑتی ہے۔ یہ بہتر روزگار کی تلاش میں غیر محفوظ ہجرت کی وہ تلخ حقیقت ہے جس کی قیمت کئی خاندان اپنی جانوں سے چکا رہے ہیں۔
کیا ہمارے گلیشیئرز ہمیشہ کے لیے ختم ہو رہے ہیں؟ چترال سے سوات تک دسمبر میں برف غائب ہے، جس نے تربیلا ڈیم سے لے کر ہمارے کھیتوں اور عوامی صحت تک خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بین الاقوامی سائنسی رپورٹس اور مقامی حقائق پر مبنی لوک سجاگ کی یہ خصوصی رپورٹ ہمیں ایک ہولناک آبی اور معاشی بحران کی وارننگ دے رہی ہے۔
پچھلے سال پاکستان نے دو لاکھ 46 ہزار میٹرک ٹن چائے درآمد کی جس کی مالیت 176 ارب روپے ہے۔ مالی سال( 2023-24) میں پاکستان نے 2 لاکھ 60 ہزار ٹن چائے درآمد کی جس پر 186 ارب روپے(657 ملین ڈالر) خرچ ہوئےتھے۔ ہر سال چائے کی پتی کا سب سے بڑا حصہ کینیا سے منگوایا جاتا ہے جو 80 فیصد سے بھی زائد ہوتا ہے۔ باقی ضرورت یوگنڈا، روانڈا، تنزانیہ اور کچھ دوسرے افریقی ملکوں کی مدد سے پوری کی جاتی ہے۔ پاکستان جتنی بھی کھانے کی چیزیں باہر سے منگواتا ہے اس میں چائے کا حصہ 8 فیصد ہے۔ پچھلے مالی سال کل درآمدی اجناس کی لاگت 2,276 ارب 30 کروڑ روپے رہی ہے۔
سیلاب نے خیبر پختونخوا میں تقریباً 3,233 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ کر دیں اور 6,206 مویشی ہلاک ہوگئے۔ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر ہے جہاں 1,157 ایکڑ پر لگی فصلیں برباد ہوئیں اور 4,818 مویشی مر گئے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگی انسانی امور (UNOCHA) کی رپیڈ نیڈز اسیسمنٹ رپورٹ کے مطابق سوات میں 853 ایکڑ فصلیں پانی میں بہہ گئیں، شانگلہ میں 559 ایکڑ اور صوابی میں 330 ایکڑ زمین متاثر ہوئی۔ مویشیوں کے نقصان کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بونیر کے بعد سب سے زیادہ جانی نقصان سوات میں ہوا جہاں 618 مویشی مر گئے، شانگلہ میں 295 اور صوابی میں 105 مویشی ہلاک ہوئے۔ مانسہرہ، تورغر اور اپر دیر میں بھی فصلوں اور مویشیوں کو خاطر خواہ نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں 80 فیصد سے زائد افراد نے فصلوں کے نقصان کی اطلاع دی، جبکہ بٹگرام اور مانسہرہ میں یہ نقصان نمایاں رہا