تونسہ شریف کے کاشتکار، سماجی کارکن، کسان بورڈ تحصیل تونسہ اور ’’چشمہ رائٹ بینک کینال بحالی تحریک‘‘ نے چشمہ رائٹ بینک کینال میں پانی کی مسلسل قلت اور نہر کی بندش کے خلاف 14 جولائی کو صبح 9 بجے ٹریکٹر مارچ کا اعلان کیا ہے۔یہ مارچ سابق امیدوار صوبائی اسمبلی، عزیز اللہ قیصرانی کی زیر قیادت ہونے جا رہا ہے۔کسان بورڈ کے مطابق ٹریکٹر ٹرالیوں پر مشتمل ریلی تونسہ کے علاقے ریتڑہ سے شروع ہوگی اور ٹبی قیصرانی، کھڈ بزدار، ترمن، رمک اور پروآ سے ہوتی ہوئی خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے گی، جہاں واپڈا اور مقامی انتظامیہ کے دفاتر کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر اس احتجاج کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے تونسہ کو اس کے حصے کا پانی فراہم نہ کیا تو احتجاجی تحریک کا اگلا مرحلہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہوگا۔منتظمین کا کہنا ہے کہ چشمہ رائٹ بینک کینال میں گزشتہ چار ماہ سے پانی کی فراہمی معطل ہے، جس کے باعث نہر خشک ہو چکی ہے اور خطے کی زرعی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پانی کی عدم دستیابی سے کپاس اور گنے کی 50 سے 60 فیصد فصلیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ آئندہ گندم کی فصل کی تیاری بھی خطرے سے دوچار ہے۔کسان تنظیموں کے مطابق ترمن، کھڈ بزدار، کاٹھ گڑھ، ٹبہ امام، نور احمد والی، نتکانی، ٹبی قیصرانی، ریتڑہ، ناڑی، تونسہ شریف، کریم والا، مکول کلاں، احمدانی اور نہر کے ٹیل پر واقع قمبر پل سمیت متعدد علاقے پانی کی شدید قلت سے متاثر ہیں۔رکن قومی اسمبلی خواجہ شیراز محمود نے بھی قومی اسمبلی میں پنجاب کے حصے کے پانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کو اس کے جائز حصے سے محروم رکھنا کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔کسان بورڈ ضلع ڈیرہ غازی خان کے صدر اعجاز حسین بلوچ اور دیگر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بین الصوبائی معاہدوں کے تحت چشمہ رائٹ بینک کینال کے ذریعے پنجاب، بالخصوص تونسہ، کو اس کا قانونی حصہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں بااثر افراد کی جانب سے مبینہ پانی چوری کے باعث نہر کے آخری حصوں تک پانی نہیں پہنچ رہا، اس لیے واپڈا فوری کارروائی کرکے پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے۔