نارنگ منڈی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق شہر اور اس سے منسلک 250 سے زائد دیہات کی بڑی آبادی صاف پانی سے محروم ہے اور لوگوں کا انحصار گھروں کے باہر نصب گہرے بور، مساجد یا خریدے گئے پانی پر ہے۔ ماضی میں سرکاری سطح پر پورے شہر میں پائپ لائن بچھا کر گھروں کو پانی کے کنکشن فراہم کیے گئے تھے، تاہم زیر زمین پائپ لائنیں بوسیدہ ہونے کے باعث اب سپلائی ہونے والے پانی میں گٹروں اور نالیوں کا پانی، زنگ، ریت اور مٹی شامل ہوتی ہے۔
پی ٹی آئی حکومت کے دور میں 195 ملین روپے کی لاگت سے صاف پانی کا نیا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت نئی پائپ لائنیں بچھائی گئیں اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑی ٹینکیاں بھی تعمیر کی گئیں۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد حکومت کی تبدیلی آ گئی، جس کے بعد نئی حکومت نے مبینہ بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات کے باعث منصوبے کو فعال نہیں کیا۔ نتیجتاً کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود شہریوں کو منصوبے کا کوئی فائدہ نہیں مل سکا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ نئے منصوبے کے تحت نہ تو گھروں کو کنکشن دیے گئے اور نہ ہی پانی کی فراہمی شروع کی گئی، جبکہ شہر میں مختلف مقامات پر نصب فلٹر پلانٹس بھی زیادہ تر غیرفعال پڑے ہیں۔