پاک افغان سرحدی کشیدگی کے باعث نو ماہ سے افغانستان میں پھنسی پاکستانی ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیوں کو وطن واپسی کی اجازت مل گئی ہے۔ طورخم بارڈر کے راستے یہ گاڑیاں پاکستان میں داخل ہونا شروع ہوگئی ہیں۔اکتوبر 2025ء میں پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کے بعد سرحد بند ہوگئی تھی، جس کے نتیجے میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز اور ایکسپورٹ سمیت تقریباً 1600 پاکستانی گاڑیاں افغانستان میں پھنس گئی تھیں۔ ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز کئی ماہ سے گاڑیوں کی واپسی کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔گزشتہ روز گاڑیوں کے مالکان اور ٹرانسپورٹرز نے طورخم بارڈر پر افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل بھی احتجاجاً روک دیا تھا۔ بعد ازاں انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد پناہ گزینوں کی واپسی بحال کر دی گئی۔پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے اعداد و شمار کے مطابق نو ماہ کی طویل بندش سے پاکستان کو 278 ارب روپے جبکہ افغانستان کو 140 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں واقع تاریخی بابِ خیبر کی اپنے اصل طرزِ تعمیر میں بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ خستہ حالی کے شکار اس تاریخی مقام کی مرمت اور تزئین کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ کی نگرانی میں باقاعدہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق بابِ خیبر کو اس کی اصل سفید سیمنٹ اور روایتی ساخت میں بحال کیا جا رہا ہے جبکہ اطراف کے علاقے کو بھی تاریخی طرز پر بہتر بنایا جائے گا تاکہ سیاحوں کو مقام کی قدیم حیثیت کے مطابق ماحول فراہم کیا جا سکے۔
محکمہ آثارِ قدیمہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ منصوبے پر ایک کروڑ 29 لاکھ روپے لاگت آئے گی اور اسے بروقت مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
دو سال قبل صوبائی حکومت نے بیوٹی فکیشن مہم کے تحت باب خیبر کی مرمت کا کام شروع کیا تھا جس میں سیاہ سیمنٹ کے استعمال پر مقامی آبادی اور سوشل میڈیا صارفین نے اعتراض کیا تھا۔ تنقید کے بعد کام روک دیا گیا تھا۔